Description
Dua e Ahad | دعائے عہد
Dua Ehad, Dua e ehead, Dua Books
دعائے عہد — امام زمانہؑ سے اپنے عہد کی تجدید کا روحانی سفر
کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی صبح کا آغاز دنیاوی مصروفیات کے بجائے امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام کی یاد، محبت اور اپنے عہد کی تجدید سے ہو؟
کیا آپ ایسی دعا کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا چاہتے ہیں جو آپ کو اپنے امامؑ سے تعلق، انتظارِ ظہور، وفاداری اور نصرت کے جذبے کی طرف متوجہ کرے؟
تو دعائے عہد ایک ایسی دعا ہے جو مؤمن کے دل میں امام زمانہؑ سے تعلق کو تازہ کرنے اور اپنے روحانی عہد کو یاد رکھنے کا خوبصورت ذریعہ بن سکتی ہے۔
دعائے عہد صرف چند دعائیہ جملوں کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے الفاظ میں امام زمانہؑ سے محبت، وفاداری، انتظار، اطاعت اور نصرت کا ایک گہرا تصور موجود ہے۔ جب ایک مؤمن اس دعا کو توجہ اور سمجھ کے ساتھ پڑھتا ہے تو وہ اپنے دل میں یہ احساس تازہ کرتا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے امامؑ سے غافل نہیں اور ان کے ظہور کا منتظر ہے۔
اسی لیے دعائے عہد کو امام زمانہؑ سے محبت رکھنے والے مؤمنین کے لیے خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
دعائے عہد کیا ہے؟
دعائے عہد امام زمانہ حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف سے تعلق اور عہد کی تجدید کے حوالے سے معروف دعا ہے۔ اس دعا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں امام زمانہؑ سے وابستگی، ان کے ظہور کی دعا، ان کی نصرت اور ان کے وفادار پیروکاروں میں شامل ہونے کی آرزو کا اظہار کیا جاتا ہے۔
اس دعا کا سب سے خوبصورت پہلو اس کا لفظ “عہد” ہے۔
عہد صرف ایک وعدہ نہیں بلکہ ایک مضبوط وابستگی کا اظہار بھی ہے۔ جب انسان دعائے عہد پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنے دل کو دوبارہ اپنے امامؑ کی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس تعلق کو تازہ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
دنیا کی مصروفیات میں انسان بہت سی چیزیں بھول سکتا ہے۔ کاروبار، ملازمت، تعلیم، گھر، معاشرتی مسائل اور روزمرہ کی پریشانیاں انسان کی توجہ اپنی طرف کھینچتی رہتی ہیں۔ ایسے میں دعائے عہد مؤمن کو یاد دلاتی ہے کہ اس کی زندگی کا ایک روحانی پہلو بھی ہے اور اسے اپنے امامؑ کے ساتھ تعلق کو بھی زندہ رکھنا چاہیے۔
دعائے عہد — صرف دعا نہیں، ایک عہد
لفظ عہد اپنے اندر بہت گہری معنویت رکھتا ہے۔
اگر کوئی شخص کسی محبوب اور عظیم شخصیت سے عہد کرتا ہے تو اس عہد کے تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ اسی طرح امام زمانہؑ سے محبت کا دعویٰ کرنے والے مؤمن کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
دعائے عہد انسان کو اسی طرف متوجہ کرتی ہے۔
یہ دعا پڑھتے ہوئے انسان اپنے آپ سے سوال کر سکتا ہے:
کیا میں اپنے امامؑ کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟
کیا میں اپنے اعمال کی اصلاح کر رہا ہوں؟
کیا میں ظلم، جھوٹ، خیانت اور برے اخلاق سے بچنے کی کوشش کرتا ہوں؟
کیا میں نماز اور دینی ذمہ داریوں کو اہمیت دیتا ہوں؟
کیا میں دوسروں کے حقوق ادا کرتا ہوں؟
کیا میری زندگی ایک ایسے شخص کی زندگی ہے جو واقعی امام زمانہؑ کا منتظر ہے؟
یہ سوالات دعائے عہد کے مفہوم کو محض الفاظ سے نکال کر عملی زندگی تک لے آتے ہیں۔
امام زمانہؑ سے محبت اور دعائے عہد
شیعہ مسلمان کے لیے امام زمانہؑ سے محبت ایک نہایت اہم روحانی تعلق ہے۔
یہ محبت صرف جذبات یا الفاظ تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ معرفت، اطاعت، انتظار اور اصلاحِ نفس کے ذریعے مضبوط ہونی چاہیے۔
دعائے عہد اسی تعلق کو روزانہ یاد کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔
انسان جب صبح کے وقت اپنے امامؑ کو یاد کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک روحانی احساس پیدا ہوتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی مصروفیات کے باوجود وہ اپنے امامؑ سے غافل نہیں۔
یہی احساس انسان کو اپنے کردار پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
ایک حقیقی منتظر صرف یہ نہیں کہتا کہ “امامؑ کب تشریف لائیں گے؟” بلکہ وہ یہ بھی سوچتا ہے:
“جب میرے امامؑ تشریف لائیں گے تو کیا میں ان کے قابل پیروکار بننے کی کوشش کر رہا ہوں؟”
یہی وہ فکر ہے جو دعائے عہد کے مفہوم کو زیادہ گہرا بنا دیتی ہے۔
دعائے عہد اور انتظارِ امام زمانہؑ
امام زمانہؑ کا انتظار صرف ایک خواہش کا نام نہیں۔
انتظار ایک ایسی کیفیت ہے جو انسان کے کردار اور سوچ کو بدل سکتی ہے۔
اگر کسی انسان کو یقین ہو کہ اس کا محبوب آنے والا ہے تو وہ اس کے استقبال کے لیے تیاری کرتا ہے۔ اسی طرح امام زمانہؑ کے حقیقی منتظر کو بھی اپنے کردار، اعمال اور ایمان کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔
دعائے عہد میں امامؑ سے تعلق، نصرت اور وفاداری کے مضامین اسی انتظار کو ایک عملی رخ دیتے ہیں۔
امامؑ کے ظہور کی دعا کرنا یقیناً ایک عظیم روحانی خواہش ہے، لیکن اس کے ساتھ اپنے نفس کی اصلاح بھی ضروری ہے۔
اپنے گھر میں اچھا اخلاق پیدا کرنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا، لوگوں کے حقوق ادا کرنا، حلال رزق کمانا، جھوٹ سے بچنا اور نماز کی پابندی کرنا بھی ایک منتظر کی زندگی کا حصہ ہو سکتا ہے۔
اس طرح دعائے عہد انسان کو صرف ظہور کی دعا نہیں بلکہ اپنی ذات کی تیاری کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔
دعائے عہد پڑھنے کی فضیلت
دعائے عہد کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک معروف روایت نقل کی جاتی ہے جس میں چالیس صبح اس دعا کو پڑھنے کی خصوصی فضیلت بیان ہوئی ہے۔
اس روایت کی وجہ سے دعائے عہد کو امام زمانہؑ سے متعلق معروف دعاؤں میں خاص مقام حاصل ہے۔
چالیس دن تک کسی عمل کو مسلسل انجام دینا انسان کے اندر پابندی، توجہ اور روحانی نظم پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
لیکن دعا کے معاملے میں صرف الفاظ دہرانا مقصد نہیں ہونا چاہیے۔ بہتر یہ ہے کہ انسان دعا کے مفاہیم کو سمجھے، اس کے پیغام پر غور کرے اور اپنی زندگی میں اس کے اثرات پیدا کرنے کی کوشش کرے۔
جب دعائے عہد سمجھ کر پڑھی جائے تو اس کا ہر جملہ انسان کو اپنے امامؑ کے ساتھ تعلق کی یاد دلاتا ہے۔
صبح کے وقت دعائے عہد کا خوبصورت معمول
صبح انسان کے پورے دن کی بنیاد بن سکتی ہے۔
اگر دن کا آغاز صرف موبائل، سوشل میڈیا، کاروباری پیغامات اور دنیاوی پریشانیوں سے ہو تو انسان کا ذہن شروع ہی سے دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔
لیکن اگر انسان اپنے دن کے آغاز میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے، دعا پڑھے اور امام زمانہؑ سے اپنے تعلق کو تازہ کرے تو اس کے لیے یہ ایک خوبصورت روحانی معمول بن سکتا ہے۔
دعائے عہد اسی وجہ سے صبح کے معمول میں شامل کی جانے والی معروف دعاؤں میں شمار ہوتی ہے۔
کچھ لمحے خاموشی سے بیٹھیں۔
اپنے دل کو دنیاوی مشغولیات سے نکالیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں۔
اپنے امامؑ کو یاد کریں۔
اور پھر دعائے عہد کو صرف زبان سے نہیں بلکہ دل کی توجہ کے ساتھ پڑھنے کی کوشش کریں۔
یہ چند منٹ پورے دن کی روحانی کیفیت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔
دعائے عہد میں امامؑ سے وفاداری کا پیغام
دعائے عہد کا ایک اہم پہلو امام زمانہؑ کے ساتھ وفاداری اور وابستگی ہے۔
مؤمن اپنے امامؑ سے تعلق کو تازہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اسے امامؑ کے حقیقی پیروکاروں اور مددگاروں میں شامل فرمایا جائے۔
یہ مضمون انسان کو اپنی زندگی کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔
اگر میں امامؑ کا پیروکار ہوں تو میرے اخلاق کیسے ہونے چاہئیں؟
اگر میں امامؑ کا منتظر ہوں تو میرے معاملات کیسے ہونے چاہئیں؟
اگر میں امامؑ کی نصرت چاہتا ہوں تو مجھے آج کیا کرنا چاہیے؟
یہ سوالات دعائے عہد کے مطالعے کو ایک روحانی تربیتی تجربہ بنا دیتے ہیں۔
دعائے عہد اور اصلاحِ نفس
امام زمانہؑ کے ظہور کی دعا کے ساتھ اپنی اصلاح بھی ضروری ہے۔
انسان اکثر دوسروں کی اصلاح کی فکر کرتا ہے لیکن اپنی ذات کو نظر انداز کر دیتا ہے۔
دعائے عہد ہمیں اپنی ذات کی طرف متوجہ کرنے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے۔
اپنے اخلاق کا جائزہ لیں۔
اپنی زبان کا جائزہ لیں۔
اپنے معاملات کا جائزہ لیں۔
اپنی عبادات کا جائزہ لیں۔
اپنے گھر والوں کے ساتھ رویے کا جائزہ لیں۔
دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
یہ چھوٹی چھوٹی کوششیں انسان کی شخصیت کو تبدیل کر سکتی ہیں۔
ایک ایسا شخص جو روزانہ دعائے عہد پڑھتا ہے، اگر وہ دعا کے مفہوم پر بھی غور کرے تو اسے اپنے عمل کی اصلاح کی تحریک مل سکتی ہے۔
دعائے عہد اور حقیقی نصرتِ امامؑ
ہم میں سے بہت سے لوگ یہ خواہش رکھتے ہیں کہ اگر امام زمانہؑ کا ظہور ہماری زندگی میں ہو تو ہم ان کے لشکر میں شامل ہوں۔
یہ یقیناً محبت کا اظہار ہے۔
لیکن حقیقی سوال یہ ہے کہ آج ہم کیا کر رہے ہیں؟
کیا ہم اپنی زندگی میں حق اور انصاف کی حمایت کرتے ہیں؟
کیا ہم اپنے معاملات میں دیانت دار ہیں؟
کیا ہم ظلم سے بچتے ہیں؟
کیا ہم دوسروں کے ساتھ حسنِ اخلاق سے پیش آتے ہیں؟
کیا ہم اپنے دینی فرائض کو اہمیت دیتے ہیں؟
دعائے عہد ہمیں اسی عملی پہلو کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ امامؑ کے ساتھ تعلق صرف خواہش نہیں بلکہ ذمہ داری بھی ہے۔
دعائے عہد بچوں اور نوجوانوں کے لیے
امام زمانہؑ سے محبت صرف بڑوں کے لیے مخصوص نہیں۔
بچوں اور نوجوانوں کے دلوں میں بھی امام زمانہؑ کی محبت اور معرفت پیدا کرنا ضروری ہے۔
والدین اگر گھر میں دعائے عہد کا معمول بنائیں تو بچوں کو بھی اس کے مفاہیم سمجھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔
بچے سے صرف یہ نہ کہیں کہ دعا پڑھو، بلکہ اسے یہ بھی بتائیں کہ ہم کس سے دعا کر رہے ہیں، امامؑ کون ہیں، ہم ان کے ظہور کے منتظر کیوں ہیں اور ایک حقیقی منتظر کی زندگی کیسی ہونی چاہیے۔
اس طرح دعائے عہد نئی نسل کے لیے صرف ایک عربی دعا نہیں رہے گی بلکہ امام زمانہؑ سے تعلق کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
نوجوان نسل اور امام زمانہؑ سے تعلق
آج کا نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہا ہے جہاں معلومات کے بے شمار ذرائع اس کے سامنے موجود ہیں۔
موبائل فون، انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوانوں کی سوچ پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔
ایسے ماحول میں نوجوان نسل کو اپنی دینی شناخت سے مضبوطی سے جوڑنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔
دعائے عہد نوجوان کو امام زمانہؑ کی طرف متوجہ کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بن سکتی ہے۔
لیکن صرف دعا پڑھنا کافی نہیں؛ اس کے مفہوم کو سمجھنا، امامؑ کی معرفت حاصل کرنا اور اپنے کردار کو بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔
اگر ایک نوجوان اپنے دن کا آغاز امام زمانہؑ کی یاد سے کرے اور پھر اپنی عملی زندگی میں سچائی، دیانت، حیا اور ذمہ داری کو اختیار کرے تو اس کے لیے انتظار کا تصور زیادہ بامعنی ہو سکتا ہے۔
دعائے عہد کو سمجھ کر پڑھیں
بہت سی دعائیں ہم پڑھتے ہیں لیکن کبھی ان کے معانی پر غور نہیں کرتے۔
زبان الفاظ ادا کرتی رہتی ہے لیکن دل ان کے مفہوم سے دور رہتا ہے۔
دعائے عہد کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
اس کے ہر اہم مضمون پر غور کریں۔
یہ عہد کیا ہے؟
یہ بیعت کس سے ہے؟
امامؑ کی نصرت کا کیا مطلب ہے؟
انتظار کا تقاضا کیا ہے؟
امامؑ سے محبت ہماری زندگی کو کیسے بدل سکتی ہے؟
جب انسان دعائے عہد کو سمجھ کر پڑھتا ہے تو دعا کے الفاظ اس کے دل میں ایک مختلف کیفیت پیدا کر سکتے ہیں۔
دعائے عہد — ایک روحانی تحفہ
دینی کتاب کسی ایسے شخص کے لیے بہترین تحفہ بن سکتی ہے جو اسلامی مطالعے سے دلچسپی رکھتا ہو۔
خاص طور پر امام زمانہؑ سے محبت رکھنے والے افراد کے لیے دعائے عہد کے موضوع پر کتاب ایک خوبصورت اور بامقصد تحفہ ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اسے اپنے والدین، بہن بھائی، دوست، شریکِ حیات یا کسی نوجوان کو تحفے میں دے سکتے ہیں۔
یہ ایسا تحفہ ہے جس کا تعلق صرف دنیاوی استعمال سے نہیں بلکہ روحانی اور دینی زندگی سے بھی ہے۔
اگر آپ کسی ایسے تحفے کی تلاش میں ہیں جو محبت کے ساتھ ساتھ دینی تعلق بھی مضبوط کرے تو دعائے عہد ایک قابلِ غور انتخاب ہے۔
گھر کی اسلامی لائبریری میں دعائے عہد
گھر میں اسلامی کتب کی موجودگی بچوں اور بڑوں دونوں کے لیے علم کا ذریعہ بنتی ہے۔
اگر گھر میں قرآن مجید، نہج البلاغہ، صحیفہ سجادیہ، مفاتیح الجنان اور اہل بیت علیہم السلام سے متعلق کتب کے ساتھ امام زمانہؑ سے متعلق مطالعہ بھی موجود ہو تو یہ ایک خوبصورت علمی ماحول پیدا کرتا ہے۔
دعائے عہد ایسی ہی کتابوں میں شامل ہو سکتی ہے جو امام زمانہؑ سے تعلق کے موضوع کو گھر کی روزمرہ زندگی سے جوڑتی ہے۔
کتاب کو صرف الماری میں رکھنے کے بجائے اس کے مضامین پڑھیں، سمجھیں اور گھر کے افراد کے ساتھ ان پر گفتگو کریں۔
دعائے عہد اور دل کی کیفیت
کبھی انسان دنیا کی پریشانیوں سے تھک جاتا ہے۔
کاروباری مشکلات، گھریلو مسائل، مالی پریشانیاں، مستقبل کی فکر اور بے شمار ذمہ داریاں ذہن کو مسلسل مصروف رکھتی ہیں۔
ایسے وقت میں دعا انسان کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتی ہے۔
دعائے عہد بھی مؤمن کو روحانی طور پر امام زمانہؑ کی یاد اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کی طرف متوجہ کرنے والی دعا ہے۔
دعا کے الفاظ انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ دنیا کے مسائل اپنی جگہ، لیکن مؤمن کی ایک بڑی روحانی امید امامؑ کے ظہور اور حق و عدل کے قیام سے بھی وابستہ ہے۔
یہ امید انسان کے اندر حوصلہ پیدا کر سکتی ہے۔
ظہور کی امید اور مؤمن کی زندگی
امام زمانہؑ کے ظہور کی امید ایک مؤمن کے دل میں مستقبل کے بارے میں ایک روشن تصور پیدا کرتی ہے۔
ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کی آرزو انسانی فطرت میں بھی موجود ہے۔
دعائے عہد اسی امید کو دعا کے الفاظ میں زندہ رکھتی ہے۔
لیکن ایک حقیقی منتظر کو صرف مستقبل کا انتظار نہیں کرنا چاہیے بلکہ آج کی زندگی کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
اگر آج ہم اپنے گھر میں انصاف نہیں کر سکتے، اپنے کاروبار میں دیانت نہیں لا سکتے، اپنے معاملات میں سچائی نہیں اختیار کر سکتے تو ہمیں اپنے انتظار کے دعوے پر بھی غور کرنا چاہیے۔
دعائے عہد کا اصل حسن یہی ہے کہ یہ انسان کو امامؑ کی یاد کے ساتھ ساتھ اپنی ذات پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
دعائے عہد — محبت سے عمل تک
امام زمانہؑ سے محبت دل میں ہو تو اس محبت کو عمل میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔
نماز کی پابندی۔
والدین کا احترام۔
حسن اخلاق۔
حلال روزی۔
سچائی۔
امانت داری۔
دوسروں کے حقوق۔
غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد۔
گناہوں سے بچنے کی کوشش۔
یہ سب ایسے اعمال ہیں جو انسان کی شخصیت کو بہتر بناتے ہیں۔
دعائے عہد پڑھتے ہوئے اگر انسان اپنی زندگی کے ان پہلوؤں پر غور کرے تو دعا اس کے لیے عملی اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
دعائے عہد — ہر صبح کا خوبصورت معمول
تصور کریں کہ آپ صبح بیدار ہوتے ہیں۔
دن شروع ہونے سے پہلے کچھ وقت اپنے رب کے لیے نکالتے ہیں۔
اپنے امامؑ کو یاد کرتے ہیں۔
اپنے عہد کو تازہ کرتے ہیں۔
ظہور کی دعا کرتے ہیں۔
اور پھر یہ نیت کرتے ہیں کہ آج کا دن گزشتہ دن سے بہتر گزارنا ہے۔
یہی دعائے عہد کو روزانہ کے معمول میں شامل کرنے کی خوبصورتی ہے۔
دنیاوی مصروفیات کے درمیان اپنے امامؑ کو یاد کرنا دل کو ایک روحانی سمت فراہم کرتا ہے۔
کتاب دعائے عہد کس کے لیے ہے؟
دعائے عہد کے موضوع پر یہ کتاب خاص طور پر ان افراد کے لیے دلچسپی رکھتی ہے جو:
- امام زمانہؑ سے محبت رکھتے ہیں۔
- امامؑ کے ظہور کے منتظر ہیں۔
- روزانہ کی دعاؤں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
- مہدوی تعلیمات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔
- دعائے عہد کے مفاہیم کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
- اپنی اسلامی لائبریری میں امام زمانہؑ سے متعلق کتاب شامل کرنا چاہتے ہیں۔
- بچوں اور نوجوانوں میں امام زمانہؑ کی محبت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
- اپنے روحانی معمول کو مزید بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
اگر آپ ان میں سے کسی بھی مقصد کے لیے کتاب تلاش کر رہے ہیں تو دعائے عہد آپ کی کتابوں کی الماری میں ایک بامقصد اضافہ ہو سکتی ہے۔
دعائے عہد — ایک سوال جو ہر مؤمن کو خود سے کرنا چاہیے
اگر میں امام زمانہؑ کے ظہور کا منتظر ہوں تو کیا میں نے خود کو اس انتظار کے قابل بنایا ہے؟
یہ سوال بہت سادہ ہے لیکن اس کا جواب ہماری پوری زندگی کا جائزہ لے سکتا ہے۔
دعائے عہد پڑھتے ہوئے یہی سوال بار بار ہمارے سامنے آ سکتا ہے۔
امامؑ سے محبت ہے تو کردار میں نظر آنی چاہیے۔
امامؑ کی نصرت چاہتے ہیں تو زندگی میں حق اور انصاف کی حمایت ہونی چاہیے۔
ظہور کی دعا کرتے ہیں تو اپنے نفس کی اصلاح بھی کرنی چاہیے۔
اور امامؑ کے ساتھ عہد کرتے ہیں تو اس عہد کو اپنی عملی زندگی میں بھی زندہ رکھنا چاہیے۔
اپنے امامؑ سے تعلق کو مزید مضبوط کریں
دنیا میں بہت سے رشتے وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتے ہیں، لیکن مؤمن کا اللہ تعالیٰ اور اہل بیت علیہم السلام سے تعلق ایسا رشتہ ہے جسے مسلسل مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
دعائے عہد اسی تعلق کی تجدید کا ایک خوبصورت ذریعہ ہے۔
اس دعا کو صرف پڑھیں نہیں، سمجھنے کی کوشش کریں۔
اس کے مضامین پر غور کریں۔
اپنے کردار کو دیکھیں۔
اپنی ترجیحات کو دیکھیں۔
اور پھر یہ کوشش کریں کہ آپ کی زندگی میں امام زمانہؑ کی یاد اور محبت صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک عملی حقیقت بن جائے۔


