Surkh Shiyat | سرخ شیعیت
₨ 1,100
Free Home Delivery
| Title | Range | Discount |
|---|---|---|
| Rs.100 Discount If You Buy 2 To 5 Products | 2 - 5 | ₨ 1,000 |
| Rs.200 Discount If You Buy 5+ Products | 6 + | ₨ 900 |
Description
سرخ شیعیت
تاریخ، فکر، مزاحمت اور مذہبی شعور کو ایک نئے زاویے سے سمجھنے کی دعوت
کچھ کتابیں صرف معلومات فراہم کرتی ہیں، جبکہ کچھ کتابیں قاری کے ذہن میں ایسے سوالات پیدا کرتی ہیں جن پر وہ کتاب بند کرنے کے بعد بھی سوچتا رہتا ہے۔ “سرخ شیعیت” بھی ایک ایسے ہی سنجیدہ اور فکری موضوع کی طرف توجہ دلاتی ہے جس میں مذہبی فکر، تاریخ، معاشرت، انسانی جدوجہد اور مزاحمت جیسے اہم پہلو باہم جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر علی شریعتی کی تحریری فکر میں مذہب کو صرف رسمی اور روایتی دائرے تک محدود رکھنے کے بجائے انسانی زندگی، معاشرتی شعور، ذمہ داری اور تاریخی حالات کے تناظر میں دیکھنے کا رجحان نمایاں رہا ہے۔ اسی وسیع فکری پس منظر میں “سرخ شیعیت” کا عنوان قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ مذہبی فکر کو تاریخ اور معاشرے کے ساتھ کس طرح سمجھا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب ان قارئین کے لیے خاص طور پر دلچسپی رکھ سکتی ہے جو شیعی فکر، اسلامی تاریخ، مذہبی شعور، مزاحمت، سماجی انصاف اور فکری تحریکوں جیسے موضوعات کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔
“سرخ شیعیت” آخر کیا ہے؟
کتاب کا عنوان خود ایک سوال ہے۔
سرخ شیعیت سے مراد کیا ہے؟
اس اصطلاح کے پیچھے کون سا فکری تصور موجود ہے؟
مذہب اور معاشرتی جدوجہد کا تعلق کس طرح سمجھا جا سکتا ہے؟
تاریخ میں مذہبی تصورات نے انسان کے اجتماعی شعور کو کس طرح متاثر کیا؟
اور ایک مذہبی فکر کس طرح ظلم، ناانصافی، جمود یا معاشرتی مسائل کے بارے میں انسان کو سوچنے پر آمادہ کر سکتی ہے؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اس عنوان کو محض ایک مذہبی اصطلاح سے آگے بڑھا کر ایک فکری موضوع بنا دیتے ہیں۔
صرف عقیدہ نہیں، فکر کا مطالعہ
مذہب انسانی زندگی میں صرف عبادات اور عقائد کا نام نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کے اخلاقی، معاشرتی اور تاریخی اثرات بھی ہوتے ہیں۔
مختلف ادوار میں مذہبی افکار نے انسان کو اخلاق، انصاف، ذمہ داری، قربانی، آزادی اور معاشرتی تعلقات کے بارے میں سوچنے کے مختلف زاویے فراہم کیے ہیں۔
اسی لیے کسی بھی مذہبی یا فکری تحریک کا مطالعہ کرتے وقت صرف اس کے ظاہری پہلو دیکھنا کافی نہیں ہوتا۔
ضروری ہے کہ یہ بھی سمجھا جائے کہ:
اس فکر کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
اس نے انسان کو کیا پیغام دیا؟
اس کے بنیادی تصورات کیا ہیں؟
اس کے پیروکار اسے کس طرح سمجھتے ہیں؟
اور وقت کے ساتھ اس فکر کے اظہار کی صورتیں کس طرح تبدیل ہوتی رہی ہیں؟
“سرخ شیعیت” کا عنوان قاری کو اسی قسم کے فکری مطالعے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
تاریخ کو سمجھے بغیر فکر کو سمجھنا مشکل ہے
کسی بھی مذہبی فکر کی تشکیل ایک مخصوص تاریخی ماحول میں ہوتی ہے۔
سیاسی حالات، معاشرتی تبدیلیاں، جنگیں، ظلم و ناانصافی، علمی مباحث، مختلف تہذیبوں سے رابطہ اور معاشرتی تجربات کسی بھی فکری روایت کی تشکیل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
شیعی تاریخ بھی صدیوں پر محیط ایک وسیع تاریخی سفر رکھتی ہے۔
اس تاریخ کو سمجھنے کے لیے صرف چند واقعات جان لینا کافی نہیں بلکہ مختلف ادوار، شخصیات، افکار اور تاریخی حالات کو مجموعی تناظر میں دیکھنا ضروری ہے۔
اسی لیے “سرخ شیعیت” جیسے عنوان کی کتاب ایک ایسے قاری کے لیے دلچسپ ہو سکتی ہے جو مذہبی فکر کو اس کے تاریخی پس منظر کے ساتھ سمجھنے کی خواہش رکھتا ہو۔
مذہب اور معاشرہ
انسان اکیلا زندگی نہیں گزارتا۔
وہ خاندان، معاشرے، ریاست، ثقافت اور مختلف اجتماعی اداروں کا حصہ ہوتا ہے۔
اسی لیے مذہبی فکر کے معاشرتی اثرات پر غور کرنا بھی اہم ہے۔
مذہب انسان کو صرف اپنی ذات کی اصلاح کی دعوت دیتا ہے یا معاشرتی ذمہ داری کا احساس بھی دلاتا ہے؟
انصاف کا تصور مذہبی فکر میں کیا مقام رکھتا ہے؟
مظلوم اور طاقتور کے تعلق کو کس زاویے سے دیکھا جاتا ہے؟
انسان اپنے معاشرے کی بہتری میں کس حد تک ذمہ دار ہے؟
یہ سوالات مذہب کو ایک زندہ معاشرتی حقیقت کے طور پر سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔
مزاحمت کا تصور
کتاب کا عنوان “سرخ شیعیت” مزاحمت اور جدوجہد جیسے تصورات کی طرف بھی فکری توجہ مبذول کراتا ہے۔
تاریخ میں مختلف مذہبی تحریکوں نے اپنے اپنے حالات کے مطابق ظلم، جبر، ناانصافی یا سیاسی دباؤ کے بارے میں مختلف رویے اختیار کیے۔
لیکن مزاحمت کا مفہوم صرف سیاسی جدوجہد تک محدود نہیں۔
انسان اپنے اندر کے خوف کے خلاف بھی مزاحمت کرتا ہے۔
جہالت کے خلاف بھی۔
ناانصافی کے خلاف بھی۔
اخلاقی زوال کے خلاف بھی۔
اور بعض اوقات معاشرتی بے حسی کے خلاف بھی۔
اس وسیع تناظر میں مزاحمت ایک اخلاقی اور انسانی تصور بھی بن جاتی ہے۔
انصاف کا سوال
دنیا کے تقریباً ہر معاشرے میں انصاف ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے۔
لیکن انصاف صرف عدالتوں اور قوانین تک محدود نہیں۔
گھر میں انصاف۔
معاشرے میں انصاف۔
کمزور کے ساتھ انصاف۔
اختلاف رکھنے والے کے ساتھ انصاف۔
اور اپنے مخالف کے بارے میں بھی انصاف۔
یہ سب انسانی اخلاقیات کا حصہ ہیں۔
مذہبی فکر کے مطالعے میں انصاف کے تصور کو سمجھنا اسی لیے اہم ہے کہ مذہب اور اخلاق کے درمیان تعلق کو بہتر طور پر دیکھا جا سکے۔
“سرخ شیعیت” جیسے فکری عنوانات قاری کو اسی قسم کے بنیادی سوالات پر غور کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
کربلا اور اجتماعی شعور
شیعی فکری روایت میں کربلا کا واقعہ ایک مرکزی تاریخی اور جذباتی اہمیت رکھتا ہے۔
امام حسینؑ کی جدوجہد، قربانی، وفاداری اور حق کے لیے استقامت کے حوالے سے مختلف علمی اور مذہبی روایات میں وسیع گفتگو ملتی ہے۔
کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھنے کے بجائے بعض مفکرین نے اسے اخلاقی اور اجتماعی شعور کی علامت کے طور پر بھی دیکھا ہے۔
یہ سوال پیدا ہوتا ہے:
کربلا آج کے انسان سے کیا کہتی ہے؟
کیا اس میں صرف ماضی کی داستان ہے؟
یا اس میں موجود اخلاقی تصورات آج بھی انسان کو اپنے کردار اور معاشرے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتے ہیں؟
یہی سوالات اس موضوع کو مزید گہرا بناتے ہیں۔
مذہبی شعور اور انسانی ذمہ داری
مذہبی شعور صرف یہ جاننے کا نام نہیں کہ انسان کس مذہب یا مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔
اس کے ساتھ یہ سوال بھی وابستہ ہے کہ:
وہ اپنے عقیدے کو اپنی عملی زندگی میں کس طرح سمجھتا ہے؟
کیا مذہبی شعور انسان کو زیادہ ذمہ دار بناتا ہے؟
کیا وہ اسے دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے؟
کیا وہ اسے ناانصافی کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے؟
کیا وہ اسے اپنی ذات سے بلند ہو کر اجتماعی بھلائی کی طرف متوجہ کرتا ہے؟
یہ سوالات مذہب کو صرف ایک شناخت کے بجائے زندہ فکری اور اخلاقی تجربے کے طور پر دیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
نوجوان نسل کے لیے ایک فکری موضوع
آج کا نوجوان بہت زیادہ معلومات کے دور میں زندگی گزار رہا ہے۔
انٹرنیٹ، سوشل میڈیا اور مختلف ذرائع نے دنیا کے تقریباً ہر موضوع تک رسائی آسان بنا دی ہے، لیکن معلومات کی کثرت ہمیشہ گہری سمجھ پیدا نہیں کرتی۔
نوجوان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مختلف افکار کو صرف سوشل میڈیا کے مختصر جملوں یا جذباتی بحثوں کے ذریعے نہ سمجھے بلکہ کتابوں، تاریخ اور سنجیدہ فکری مطالعے کی طرف بھی جائے۔
“سرخ شیعیت” جیسے موضوعات نوجوان کو مذہب، تاریخ، معاشرت اور فکر کے باہمی تعلق پر غور کرنے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔
سوال کرنا فکری سفر کی ابتدا ہے
زندہ فکر سوالات سے آگے بڑھتی ہے۔
سوال کرنا لازماً مخالفت نہیں ہوتا۔
کسی موضوع کو سمجھنے کے لیے سوال کرنا، مختلف زاویے دیکھنا اور دلیل کو پرکھنا علمی مطالعے کا بنیادی حصہ ہے۔
سرخ شیعیت کا عنوان بھی قاری کے سامنے کئی سوالات رکھتا ہے۔
“سرخ” کا علامتی مفہوم کیا ہے؟
شیعی فکر میں قربانی اور مزاحمت کا مقام کیا ہے؟
مذہب اور اجتماعی جدوجہد میں کیا تعلق ہے؟
تاریخ مذہبی شعور کی تشکیل پر کیسے اثر انداز ہوتی ہے؟
ایسے سوالات قاری کو محض معلومات حاصل کرنے کے بجائے غور و فکر کی طرف لے جاتے ہیں۔
مختلف زاویوں کو سمجھنے کی ضرورت
مذہبی موضوعات پر گفتگو کرتے وقت جذبات کے بجائے علمی انداز اختیار کرنا زیادہ مفید ہوتا ہے۔
مختلف مسلم مکاتبِ فکر کی اپنی اپنی علمی روایات، تاریخی تفسیریں اور فکری اصطلاحات ہیں۔
کسی ایک روایت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے اسی کے اپنے تاریخی اور فکری پس منظر میں پڑھا جائے۔
اسی طرح قاری کو یہ فرق بھی سمجھنا چاہیے کہ:
کسی مصنف کا نقطۂ نظر، پوری مذہبی روایت کا واحد نقطۂ نظر نہیں ہوتا۔
یہ علمی فرق کتاب کے مطالعے کو زیادہ سنجیدہ اور متوازن بناتا ہے۔
ڈاکٹر علی شریعتی کا فکری انداز
کتاب کے سرورق پر مصنف کا نام ڈاکٹر علی شریعتی درج ہے۔
علی شریعتی جدید دور کے معروف ایرانی مفکر اور مصنف تھے، جن کی تحریروں میں مذہب، معاشرہ، انسان، تاریخ، آزادی اور سماجی شعور جیسے موضوعات پر بحث ملتی ہے۔
ان کا فکری انداز روایتی مذہبی مباحث سے آگے بڑھ کر مذہب کے سماجی اور انسانی پہلوؤں پر سوال اٹھانے کے لیے بھی جانا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے ان کی تحریریں ایسے قارئین کے لیے خاص دلچسپی رکھ سکتی ہیں جو مذہب اور جدید معاشرتی فکر کے تعلق کو سمجھنے میں دلچسپی رکھتے ہوں۔
ایک ایسی کتاب جو بحث کو جنم دیتی ہے
اچھی فکری کتاب ہمیشہ قاری کو ہر سوال کا ایک سطری جواب نہیں دیتی۔
کبھی وہ مزید سوالات پیدا کرتی ہے۔
کبھی کسی معروف تصور کو نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔
اور کبھی قاری کو اپنے پہلے سے قائم خیالات پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔
“سرخ شیعیت” کا موضوع بھی اسی نوعیت کا ہے۔
یہ کتاب ان قارئین کے لیے خاص طور پر دلچسپ ہو سکتی ہے جو مذہب اور تاریخ کے موضوعات کو سنجیدہ فکری بحث کے طور پر پڑھنا چاہتے ہیں۔
مذہب، انسان اور معاشرتی تبدیلی
انسانی معاشرے ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
وقت کے ساتھ سیاسی حالات تبدیل ہوتے ہیں، معاشرتی اقدار بدلتی ہیں، نئی ٹیکنالوجی آتی ہے اور انسان کے مسائل کی نوعیت بھی تبدیل ہوتی ہے۔
ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ مذہبی فکر نئے حالات کے ساتھ کس طرح مکالمہ کرتی ہے۔
کیا مذہبی اصول صرف تاریخی حالات کے لیے تھے؟
یا ان میں ایسے اخلاقی اصول بھی موجود ہیں جنہیں ہر دور کا انسان نئے حالات میں سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے؟
یہ سوال مذہب اور جدید دنیا کے درمیان تعلق کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔
سرخ رنگ کی علامت
کتاب کے سرورق کا سرخ اور سیاہ رنگ بھی کتاب کے عنوان کے ساتھ ایک مضبوط بصری تاثر پیدا کرتا ہے۔
سرخ رنگ عام طور پر جوش، قربانی، جدوجہد اور توانائی جیسی علامتوں سے وابستہ کیا جاتا ہے، جبکہ سیاہ رنگ سنجیدگی، غم اور تاریخی گہرائی کا احساس پیدا کرتا ہے۔
کتاب کا سرورق اسی لیے پہلی نظر میں قاری کی توجہ اپنی طرف کھینچتا ہے اور اسے کتاب کے موضوع کے بارے میں مزید جاننے کی تحریک دیتا ہے۔
کتاب صرف ایک خاص طبقے کے لیے نہیں
مذہبی فکر سے متعلق کتابیں بعض اوقات صرف مخصوص قارئین تک محدود سمجھی جاتی ہیں، لیکن فکری مطالعے کی خوبصورتی یہ ہے کہ مختلف پس منظر رکھنے والا قاری بھی کسی کتاب سے نئے سوالات اور معلومات حاصل کر سکتا ہے۔
جو شخص شیعی فکر سے واقف ہے، وہ اپنے موجودہ علم کو مزید گہرائی سے دیکھ سکتا ہے۔
جو اس موضوع سے کم واقف ہے، وہ ایک مختلف فکری روایت کو سمجھنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
اور جو مذہب، تاریخ یا سماجی فکر کا طالب علم ہے، وہ اسے ایک فکری مطالعے کے مواد کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔
کتاب خریدنے سے پہلے ایک اہم بات
یہ کتاب مذہبی اور فکری موضوع سے تعلق رکھتی ہے، اس لیے اسے پڑھتے وقت یہ ذہن میں رکھنا مفید ہے کہ مصنف کی تعبیرات اور استدلال کو مصنف کے اپنے فکری تناظر میں سمجھا جائے۔
کسی بھی مذہبی موضوع پر گہری رائے قائم کرنے کے لیے مختلف معتبر مصادر، تاریخی حوالوں اور مختلف مکاتبِ فکر کی علمی آرا کا تقابلی مطالعہ زیادہ جامع تصویر فراہم کرتا ہے۔
یہ طریقہ قاری کو جذباتی ردعمل کے بجائے علمی اور تنقیدی مطالعے کی طرف لے جاتا ہے۔
یہ کتاب کن قارئین کے لیے ہے؟
“سرخ شیعیت” ان قارئین کے لیے دلچسپی رکھ سکتی ہے جو:
- اسلامی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔
- شیعی فکر اور اس کے تاریخی پس منظر کو سمجھنا چاہتے ہیں۔
- ڈاکٹر علی شریعتی کی فکری تحریروں سے واقف ہونا چاہتے ہیں۔
- مذہب اور معاشرتی فکر کے تعلق پر غور کرتے ہیں۔
- کربلا، قربانی اور مزاحمت کے تصورات کا فکری مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔
- مذہب، انسان اور معاشرے کے باہمی تعلق میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
- روایتی موضوعات کو جدید فکری زاویوں سے دیکھنا پسند کرتے ہیں۔
- مذہبی اور فکری کتب اپنی ذاتی لائبریری میں جمع کرتے ہیں۔
- سنجیدہ اردو مطالعے کے لیے نئی کتابیں تلاش کر رہے ہیں۔
کتاب سے آپ کو کیا مل سکتا ہے؟
اس کتاب کا مطالعہ قاری کو کئی اہم موضوعات پر غور کرنے کا موقع دے سکتا ہے:
تاریخ
مذہبی فکر کو اس کے تاریخی پس منظر میں دیکھنے کی کوشش۔
فکر
مذہب کے مختلف فکری اور معاشرتی پہلوؤں پر غور۔
مزاحمت
ظلم، جبر اور ناانصافی کے مقابلے میں انسانی کردار کے سوالات۔
قربانی
قربانی کے اخلاقی اور اجتماعی مفہوم پر غور۔
شعور
مذہبی شناخت سے آگے بڑھ کر مذہبی شعور اور ذمہ داری کا سوال۔
معاشرہ
مذہب اور اجتماعی زندگی کے تعلق کو سمجھنے کی کوشش۔
صرف کتاب نہ پڑھیں، سوالات کے ساتھ پڑھیں
اس کتاب کو پڑھنے کا ایک دلچسپ طریقہ یہ ہے کہ ہر اہم تصور کے ساتھ خود سے سوال کیا جائے:
مصنف یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں؟
اس کے تاریخی شواہد کیا ہیں؟
اس تصور کی دوسری تشریحات کیا ہو سکتی ہیں؟
مختلف مکاتبِ فکر اسے کس طرح دیکھتے ہیں؟
اور اس بحث کا آج کے انسان سے کیا تعلق ہے؟
اس طرح کتاب محض صفحات کا مجموعہ نہیں رہتی بلکہ ایک فکری مکالمہ بن جاتی ہے۔
ایک ایسی کتاب جو کتابوں کی الماری سے زیادہ ذہن میں جگہ بنائے
کتاب کی اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ اسے پڑھا جائے۔
اصل کامیابی یہ بھی ہے کہ اس کے خیالات قاری کو اپنے اردگرد کی دنیا کو نئے انداز میں دیکھنے پر مجبور کریں۔
“سرخ شیعیت” کا موضوع ایسا ہی ہے۔
یہ مذہب، تاریخ، فکر اور معاشرے کے ایسے پہلوؤں کی طرف توجہ دلاتا ہے جن پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب ان قارئین کے لیے خاص طور پر موزوں ہے جو صرف آسان اور مختصر جوابات کے بجائے گہرے سوالات اور فکری مباحث میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
آج ہی اپنے مطالعے میں ایک نیا فکری موضوع شامل کریں
اگر آپ اسلامی فکر، مذہبی تاریخ، شیعی روایت، ڈاکٹر علی شریعتی کے افکار یا مذہب اور معاشرے کے باہمی تعلق جیسے موضوعات میں دلچسپی رکھتے ہیں تو “سرخ شیعیت” آپ کی ذاتی لائبریری کے لیے ایک قابلِ توجہ اضافہ ہو سکتی ہے۔
یہ کتاب آپ کو ایک ایسے موضوع کی طرف لے جاتی ہے جہاں تاریخ اور فکر، مذہب اور معاشرہ، عقیدہ اور شعور، قربانی اور جدوجہد جیسے تصورات ایک دوسرے سے جڑتے دکھائی دیتے ہیں۔
ایک کتاب، ایک عنوان، اور غور و فکر کے بے شمار دروازے۔
“سرخ شیعیت” — مذہبی فکر اور تاریخی شعور کے ایک اہم موضوع سے تعارف کی دعوت۔
اگر آپ ایسے مطالعے کو پسند کرتے ہیں جو صرف معلومات نہ دے بلکہ سوال بھی پیدا کرے، تو “سرخ شیعیت” کو اپنی کتابوں کی فہرست میں ضرور شامل کریں۔

