Amaali Sheikh Tusi 2 Jild | امالی شیخ طوسی
₨ 1,500
Free Home Delivery 🚚
| Title | Range | Discount |
|---|---|---|
| Rs.100 Discount If You Buy 2 To 5 Products | 2 - 5 | ₨ 1,400 |
| Rs.200 Discount If You Buy 5+ Products | 6 + | ₨ 1,300 |
Description
امالی شیخ طوسی (دو جلدوں کا مکمل سیٹ) – احادیثِ اہلِ بیت علیہم السلام، اخلاق، عقائد اور اسلامی معارف کا عظیم علمی خزانہ
اگر آپ اہلِ بیت علیہم السلام کی مستند احادیث، اسلامی عقائد، اخلاقی تعلیمات، عبادات، فضائل اور دینی معارف کو ایک جامع اور قابلِ اعتماد مجموعے میں پڑھنا چاہتے ہیں تو “امالی شیخ طوسی” دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسا عظیم شاہکار ہے جو ہر دینی طالبِ علم، محقق، عالم اور عام قاری کی لائبریری کی زینت بننے کے لائق ہے۔
امالی شیخ طوسی صدیوں سے شیعہ اسلامی علوم کا ایک معتبر اور بنیادی ماخذ سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب میں شیخ الطائفہ شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی نے اپنے علمی مجالس میں بیان ہونے والی روایات، اخلاقی نصیحتوں، فضائلِ اہلِ بیت علیہم السلام، اسلامی عقائد، قرآن کی تفسیر سے متعلق نکات، انبیاء علیہم السلام کے واقعات اور انسانی کردار سازی کے بے شمار موضوعات کو نہایت منظم انداز میں جمع کیا ہے۔
یہ خوبصورت دو جلدوں کا سیٹ صرف ایک حدیثی کتاب نہیں بلکہ ایمان، علم، تقویٰ اور معرفت کی ایسی جامع درسگاہ ہے جہاں ہر صفحہ قاری کو اللہ تعالیٰ کی قربت، رسول اللہ ﷺ کی سیرت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی پاکیزہ تعلیمات سے روشناس کراتا ہے۔
امالی کیا ہے؟
اسلامی علمی روایت میں “امالی” ان علمی مجالس کو کہا جاتا ہے جن میں ایک عظیم عالم اپنے شاگردوں کو احادیث، علمی نکات، فقہی مسائل، اخلاقی تعلیمات اور اسلامی معارف بیان کرتا ہے، جبکہ شاگرد انہیں قلمبند کرتے ہیں۔
شیخ طوسی کی امالی انہی علمی مجالس کا مستند مجموعہ ہے، جسے صدیوں سے علماء، فقہاء اور محققین علمی اعتبار سے نہایت اہم مقام دیتے آئے ہیں۔
شیخ طوسی کون تھے؟
شیخ ابو جعفر محمد بن حسن طوسی اسلامی تاریخ کے عظیم ترین فقہاء اور محدثین میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر، اصول، عقائد اور رجال جیسے متعدد علوم میں ایسی خدمات انجام دیں جن سے آج تک اسلامی دنیا استفادہ کر رہی ہے۔
آپ کی تصانیف آج بھی دینی مدارس، جامعات اور علمی مراکز میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں، اور امالی شیخ طوسی انہی عظیم علمی خدمات کا ایک روشن نمونہ ہے۔
دو جلدوں پر مشتمل مکمل علمی مجموعہ
یہ سیٹ دو جلدوں میں مکمل کیا گیا ہے تاکہ قاری آسانی کے ساتھ مسلسل مطالعہ کر سکے۔
پہلی جلد میں متعدد علمی مجالس، احادیث، اخلاقی نصیحتیں، فضائل اور اسلامی عقائد سے متعلق اہم روایات شامل ہیں۔
دوسری جلد میں مزید احادیث، اہلِ بیت علیہم السلام کے فضائل، انبیاء علیہم السلام کے حالات، عبادات، اسلامی اخلاق، قیامت، تقویٰ، صبر، دعا، توبہ اور زندگی کے بے شمار موضوعات نہایت جامع انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔
اس کتاب میں کن موضوعات پر روشنی ڈالی گئی ہے؟
یہ عظیم کتاب متعدد اسلامی علوم کا حسین مجموعہ ہے، جن میں خصوصاً درج ذیل موضوعات شامل ہیں:
- احادیثِ اہلِ بیت علیہم السلام
- فضائلِ رسول اللہ ﷺ
- فضائلِ اہلِ بیت علیہم السلام
- انبیاء علیہم السلام کے واقعات
- اسلامی عقائد
- توحید
- نبوت
- امامت
- دعا اور عبادت
- صبر اور شکر
- تقویٰ
- حسنِ اخلاق
- والدین کے حقوق
- معاشرتی آداب
- اخلاص
- عدل
- قیامت
- توبہ
- علم کی فضیلت
- قرآن کریم سے متعلق علمی نکات
اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات کا روشن آئینہ
اس کتاب کی ایک بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اہلِ بیت علیہم السلام کی بیان کردہ متعدد احادیث موجود ہیں، جو انسان کو دین کی صحیح معرفت عطا کرتی ہیں۔
یہ روایات انسان کو سکھاتی ہیں کہ:
- اللہ تعالیٰ سے تعلق کیسے مضبوط کیا جائے۔
- علم کیوں ضروری ہے۔
- تقویٰ کی حقیقت کیا ہے۔
- حسنِ اخلاق کی اہمیت کیا ہے۔
- صبر کی فضیلت کیا ہے۔
- انسان معاشرے میں کیسے بہترین کردار ادا کرے۔
اخلاقی تربیت کا بہترین ذریعہ
امالی شیخ طوسی صرف حدیث کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی تربیتی کتاب بھی ہے۔
اس کے مطالعے سے انسان سیکھتا ہے:
- سچائی کی اہمیت
- امانت داری
- صبر
- عاجزی
- اخلاص
- حسنِ سلوک
- والدین کی خدمت
- رشتہ داروں کے حقوق
- غریبوں کی مدد
- انصاف
- اللہ تعالیٰ پر توکل
یہ تعلیمات ہر دور کے انسان کے لیے یکساں اہم ہیں۔
طلبہ اور محققین کے لیے قیمتی سرمایہ
اسلامی علوم کے طالب علموں کے لیے امالی شیخ طوسی ایک بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
یہ کتاب:
- تحقیق میں مدد دیتی ہے۔
- حدیثی مطالعے کو مضبوط بناتی ہے۔
- اسلامی تاریخ کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
- عقائد کے مطالعے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔
- علمی حوالہ جات کے لیے نہایت مفید ہے۔
اسی لیے یہ مدارس، جامعات اور دینی لائبریریوں میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
عام قاری کے لیے بھی مفید
اگرچہ یہ ایک علمی کتاب ہے، لیکن اس میں بیان کیے گئے مضامین ہر مسلمان کے لیے فائدہ مند ہیں۔
جو شخص اپنی زندگی میں دین کو بہتر انداز سے سمجھنا چاہتا ہے، اخلاق کو سنوارنا چاہتا ہے، اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے واقف ہونا چاہتا ہے یا اپنی روحانی تربیت کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ کتاب بہترین ساتھی ثابت ہو سکتی ہے۔
خوبصورت طباعت اور مضبوط جلد
یہ دو جلدوں کا سیٹ بہترین معیار کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔
اس کی نمایاں خصوصیات:
- مضبوط ہارڈ بائنڈنگ
- خوبصورت اور دیدہ زیب سرورق
- معیاری سفید کاغذ
- واضح اور آسان مطالعے کے لیے عمدہ پرنٹنگ
- طویل عرصے تک محفوظ رہنے والی مضبوط جلد
یہ تمام خصوصیات اسے ذاتی لائبریری کے ساتھ ساتھ تحفے کے لیے بھی بہترین انتخاب بناتی ہیں۔
کن افراد کے لیے موزوں؟
یہ دو جلدوں کا عظیم مجموعہ خصوصاً درج ذیل افراد کے لیے نہایت مفید ہے:
- علماء
- خطباء
- دینی مدارس کے طلبہ
- جامعات کے اسلامیات کے طالب علم
- محققین
- حدیث کے شائقین
- دینی لائبریریاں
- اسلامی مراکز
- گھریلو مطالعہ کرنے والے افراد
- ہر وہ شخص جو اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات سے علمی استفادہ کرنا چاہتا ہو۔
اس کتاب کے نمایاں فوائد
- دو جلدوں پر مشتمل مکمل مجموعہ
- مستند حدیثی سرمایہ
- اہلِ بیت علیہم السلام کی تعلیمات
- اسلامی عقائد کی وضاحت
- اخلاقی تربیت کا بہترین ذریعہ
- روحانی اصلاح میں معاون
- علمی تحقیق کے لیے مفید
- مدارس اور جامعات کے لیے اہم حوالہ
- مضبوط جلد اور معیاری طباعت
- ہر دینی لائبریری کے لیے قیمتی اضافہ
نتیجہ
“امالی شیخ طوسی” دو جلدوں پر مشتمل ایک ایسا عظیم علمی اور حدیثی شاہکار ہے جو علم، معرفت، اخلاق اور روحانی تربیت کا جامع خزانہ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کتاب کے ہر باب میں ایسی احادیث اور تعلیمات موجود ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی سنت اور اہلِ بیت علیہم السلام کی پاکیزہ تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔
اگر آپ اپنی دینی معلومات میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، مستند حدیثی ذخیرے کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں یا اہلِ بیت علیہم السلام کے علوم سے گہرا تعلق قائم کرنا چاہتے ہیں تو امالی شیخ طوسی (دو جلدوں کا مکمل سیٹ) یقیناً آپ کی لائبریری کا ایک نہایت قیمتی اور لازمی حصہ ثابت ہوگا۔ یہ مجموعہ صرف مطالعے کی کتاب نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا ایک ایسا علمی سرمایہ ہے جو ایمان، فکر اور کردار کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔





















