Aaina e Tarbiyat | آئینۂ تربیت

 900

Free Home Delivery

Title Range Discount
Rs.100 Discount If You Buy 2 To 5 Products 2 - 5  800
Rs.200 Discount If You Buy 5+ Products 6 +  700
Add to Wishlist
Add to Wishlist

Description

آئینۂ تربیت — کردار سازی اور بہترین شخصیت کی تعمیر کا روشن سفر

انسان کی زندگی صرف علم حاصل کرنے، کامیابی حاصل کرنے یا دنیاوی مقام و مرتبہ پانے کا نام نہیں، بلکہ ایک خوبصورت، باکردار، بااخلاق اور باعمل شخصیت بننے کا نام بھی ہے۔ علم انسان کو معلومات دے سکتا ہے، لیکن تربیت انسان کو وہ شعور عطا کرتی ہے جس سے اس کی سوچ، کردار، گفتگو، عادات اور زندگی کا انداز سنور جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک بہترین معاشرے کی بنیاد صرف تعلیم پر نہیں بلکہ اعلیٰ تربیت پر قائم ہوتی ہے۔

“آئینۂ تربیت” ایک ایسا خوبصورت اور بامقصد عنوان ہے جو انسان کو اپنی شخصیت کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے۔ جس طرح آئینہ انسان کو اس کا ظاہری عکس دکھاتا ہے، اسی طرح تربیت کا آئینہ انسان کو اس کے باطن، اخلاق، رویّے، عادات اور کردار کی حقیقت سے روشناس کراتا ہے۔ انسان جب اپنے اندر جھانکتا ہے تو اسے اپنی خوبیاں بھی نظر آتی ہیں اور وہ کمزوریاں بھی جنہیں بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ کتاب تربیت کے اسی عظیم تصور کو سمجھنے، اپنانے اور عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ایک خوبصورت کوشش ہے۔ “آئینۂ تربیت” ہر اس فرد کے لیے ایک اہم اور مفید مطالعہ ثابت ہو سکتی ہے جو اپنی ذات کی اصلاح، اپنے کردار کی تعمیر اور اپنی زندگی کو بہتر اصولوں کے مطابق گزارنے کی خواہش رکھتا ہے۔

تربیت کیا ہے اور انسان کی زندگی میں اس کی اہمیت

تربیت محض چند نصیحتیں سن لینے یا کچھ اچھے الفاظ یاد کر لینے کا نام نہیں۔ حقیقی تربیت انسان کی پوری شخصیت کو متاثر کرتی ہے۔ یہ اس کی سوچ کو بہتر بناتی ہے، اس کے اخلاق میں نرمی پیدا کرتی ہے، اس کے رویّے میں اعتدال لاتی ہے اور اسے دوسروں کے حقوق اور احساسات کا خیال رکھنا سکھاتی ہے۔

ایک انسان بہت زیادہ تعلیم یافتہ ہو سکتا ہے، اس کے پاس بے شمار معلومات ہو سکتی ہیں، لیکن اگر اس کے اندر اخلاق، برداشت، عاجزی، صبر اور حسنِ سلوک نہ ہو تو اس کی شخصیت میں ایک بڑی کمی باقی رہ جاتی ہے۔ دوسری طرف ایک باکردار اور اچھی تربیت رکھنے والا انسان اپنے علم، اپنی گفتگو اور اپنے عمل کے ذریعے دوسروں کے لیے آسانی اور بھلائی کا ذریعہ بنتا ہے۔

اسی لیے تربیت انسان کو صرف کامیاب نہیں بلکہ بہتر انسان بناتی ہے۔

“آئینۂ تربیت” کا بنیادی پیغام بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ انسان اپنی شخصیت کو دیکھے، اپنے رویّوں کا جائزہ لے اور یہ سوچے کہ وہ اپنے خاندان، معاشرے اور آنے والی نسلوں کے لیے کس قسم کی مثال پیش کر رہا ہے۔

آئینۂ تربیت — اپنی شخصیت کو پہچاننے کا ذریعہ

ہر انسان دوسروں کی خامیاں دیکھنے میں اکثر بہت جلدی کرتا ہے، لیکن اپنی کمزوریوں کو دیکھنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ انسان دوسروں کے رویّوں پر تنقید کر لیتا ہے، مگر کبھی کبھی اپنے الفاظ اور اپنے عمل کا جائزہ لینا بھول جاتا ہے۔

یہیں سے آئینۂ تربیت کا تصور مزید اہم ہو جاتا ہے۔

انسان کو وقتاً فوقتاً اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے:

کیا میری گفتگو دوسروں کے لیے تکلیف دہ تو نہیں؟

کیا میں اپنے والدین، بزرگوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہوں؟

کیا میں غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھتا ہوں؟

کیا میری زبان سچائی اور بھلائی کے لیے استعمال ہوتی ہے؟

کیا میں دوسروں کی عزت کرتا ہوں؟

کیا میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہوں؟

کیا میری شخصیت میرے گھر والوں اور معاشرے کے لیے ایک مثبت مثال ہے؟

یہ سوالات انسان کو اپنی زندگی کے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ خود احتسابی کے بغیر شخصیت کی اصلاح ممکن نہیں۔ جب انسان اپنی غلطیوں کو پہچانتا ہے، تب ہی وہ انہیں درست کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

یہی اصلاح کا پہلا قدم ہے۔

بہترین تربیت بہترین نسلوں کی بنیاد ہے

کسی بھی قوم اور معاشرے کا مستقبل اس کے بچوں اور نوجوانوں کے کردار سے وابستہ ہوتا ہے۔ اگر نئی نسل کو صرف دنیاوی کامیابی کی تعلیم دی جائے، لیکن اخلاق، ذمہ داری، احترام اور اچھے کردار کی تربیت نہ دی جائے تو معاشرے میں بہت سی اخلاقی اور سماجی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

بچوں کی تربیت صرف یہ نہیں کہ انہیں اچھے اسکول میں داخل کروا دیا جائے یا بہترین تعلیم دلا دی جائے۔ حقیقی تربیت میں یہ بھی شامل ہے کہ انہیں سچ بولنا سکھایا جائے، بڑوں کی عزت کرنا سکھایا جائے، چھوٹوں سے شفقت کرنا سکھایا جائے اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا سکھایا جائے۔

بچے صرف نصیحتوں سے نہیں بلکہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بھی سیکھتے ہیں۔

وہ اپنے والدین کی گفتگو دیکھتے ہیں۔

وہ اپنے گھر کے ماحول کو محسوس کرتے ہیں۔

وہ بڑوں کے رویّوں سے سبق لیتے ہیں۔

وہ دیکھتے ہیں کہ مشکل وقت میں گھر کے افراد کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ پیش آتے ہیں۔

اسی لیے تربیت صرف بچوں کی ضرورت نہیں بلکہ بڑوں کی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر والدین اور اساتذہ خود اچھا کردار اختیار کریں تو بچوں کی شخصیت پر اس کے گہرے اور مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

“آئینۂ تربیت” جیسے عنوان کی اہمیت اسی لیے بڑھ جاتی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ نئی نسل کی تعمیر سے پہلے ہمیں اپنی شخصیت کو بھی دیکھنا چاہیے۔

گھر — تربیت کی پہلی درسگاہ

انسان کی شخصیت کی بنیاد اکثر گھر سے رکھی جاتی ہے۔ گھر کا ماحول بچے کے مزاج، عادات اور رویّوں پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ محبت، احترام، اعتماد اور اچھے اخلاق پر قائم گھر بچوں کی شخصیت کو مضبوط بناتے ہیں۔

گھر میں اگر گفتگو میں نرمی ہو تو بچے نرمی سیکھتے ہیں۔

اگر گھر میں بڑوں کا احترام کیا جاتا ہو تو بچے احترام سیکھتے ہیں۔

اگر گھر میں سچائی کو اہمیت دی جاتی ہو تو بچے سچ بولنے کی عادت اختیار کرتے ہیں۔

اگر گھر میں ایک دوسرے کی مدد کی جاتی ہو تو بچوں کے اندر ہمدردی اور تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔

اس کے برعکس اگر گھر میں ہر وقت غصہ، سختی، بے اعتمادی اور بدزبانی ہو تو اس کے اثرات بھی نئی نسل کی شخصیت پر پڑ سکتے ہیں۔

تربیت کا خوبصورت آغاز گھر سے ہوتا ہے۔ والدین کے الفاظ سے زیادہ ان کے اعمال بچوں کی تربیت کرتے ہیں۔ ایک اچھا والد یا والدہ صرف یہ نہیں کہتے کہ سچ بولو، بلکہ خود بھی سچ بول کر دکھاتے ہیں۔ وہ صرف احترام کی نصیحت نہیں کرتے بلکہ خود دوسروں کی عزت کرتے ہیں۔

یہی عملی تربیت ہے۔

استاد کا کردار اور تربیت کی ذمہ داری

استاد صرف کتابی علم دینے والا فرد نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے شاگردوں کی شخصیت کی تشکیل میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایک اچھے استاد کے الفاظ بعض اوقات زندگی بھر کے لیے انسان کے دل و دماغ میں محفوظ رہتے ہیں۔

ایک استاد طالب علم کو صرف سوالوں کے جواب نہیں سکھاتا بلکہ اسے سوال کرنے کا سلیقہ بھی دیتا ہے۔ وہ صرف کامیابی کے راستے نہیں بتاتا بلکہ ناکامی میں حوصلہ برقرار رکھنے کی تعلیم بھی دیتا ہے۔

ایک بہترین استاد اپنے شاگردوں کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے، ان کی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور انہیں ایک بہتر انسان بننے کی طرف رہنمائی دیتا ہے۔

اسی لیے تعلیم اور تربیت کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ تعلیم انسان کے ذہن کو روشن کرتی ہے جبکہ تربیت اس کے کردار کو سنوارتی ہے۔ دونوں مل کر ایک مکمل شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔

اخلاق — شخصیت کی اصل خوبصورتی

انسان کی ظاہری خوبصورتی وقت کے ساتھ بدل سکتی ہے، اس کا لباس بدل سکتا ہے، اس کا مقام اور حالات تبدیل ہو سکتے ہیں، لیکن اچھا اخلاق انسان کی وہ خوبی ہے جو اسے ہر دور اور ہر جگہ عزت عطا کرتی ہے۔

نرم گفتگو، سچائی، عاجزی، صبر، برداشت، انصاف اور ہمدردی ایسی خوبیاں ہیں جو انسان کے کردار کو خوبصورت بناتی ہیں۔

بعض لوگ اپنے علم کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں، بعض اپنی دولت کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں، مگر کچھ لوگ اپنے بہترین اخلاق کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔

ایک مسکراہٹ کسی غمزدہ شخص کے لیے آسانی بن سکتی ہے۔

ایک نرم لفظ کسی پریشان انسان کے دل کو سکون دے سکتا ہے۔

کسی کی مدد کرنا کسی کی زندگی میں امید پیدا کر سکتا ہے۔

کسی کو معاف کرنا دلوں کے فاصلے ختم کر سکتا ہے۔

یہی چھوٹے چھوٹے اعمال دراصل ایک عظیم شخصیت کی تعمیر کرتے ہیں۔

“آئینۂ تربیت” انسان کو اسی خوبصورت کردار کی طرف متوجہ کرتی ہے جس میں ظاہری کامیابی کے ساتھ باطنی خوبصورتی بھی شامل ہو۔

زبان کی تربیت — الفاظ کی طاقت کو پہچانیے

انسان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو اس کی گفتگو ہے۔ بعض الفاظ دلوں کو جوڑ دیتے ہیں اور بعض الفاظ برسوں کے تعلقات کو ختم کر دیتے ہیں۔

اس لیے زبان کی تربیت انتہائی ضروری ہے۔

بولنے سے پہلے سوچنا، موقع کے مطابق گفتگو کرنا، دوسروں کو مکمل بات کرنے دینا اور اختلاف کے باوجود احترام برقرار رکھنا ایک تربیت یافتہ شخصیت کی علامت ہے۔

انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر سچ ہر موقع پر سخت انداز میں کہنا ضروری نہیں۔ اچھے الفاظ اور مناسب انداز گفتگو کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔

اختلاف زندگی کا حصہ ہے، لیکن بدتمیزی ضروری نہیں۔

تنقید ممکن ہے، مگر تحقیر ضروری نہیں۔

اپنی بات کہنا ضروری ہو سکتا ہے، مگر دوسرے کی عزت ختم کرنا ضروری نہیں۔

ایک مہذب اور بااخلاق گفتگو انسان کی تربیت کا واضح ثبوت ہوتی ہے۔

صبر اور برداشت — مضبوط شخصیت کی نشانی

زندگی ہمیشہ انسان کی خواہش کے مطابق نہیں چلتی۔ بعض اوقات حالات مشکل ہوتے ہیں، بعض اوقات انسان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بعض اوقات دوسروں کے رویّے بھی آزمائش بن جاتے ہیں۔

ایسے وقت میں صبر اور برداشت انسان کی شخصیت کی اصل طاقت بن جاتے ہیں۔

صبر کا مطلب کمزوری نہیں بلکہ اپنے جذبات پر قابو رکھنا ہے۔

برداشت کا مطلب اپنی عزت ختم کر دینا نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ حالات کا سامنا کرنا ہے۔

ایک تربیت یافتہ انسان ہر بات پر غصہ نہیں کرتا، ہر اختلاف کو دشمنی نہیں سمجھتا اور ہر مشکل کے سامنے ہار نہیں مانتا۔

وہ سوچتا ہے۔

وہ حالات کو سمجھتا ہے۔

وہ اپنے الفاظ پر قابو رکھتا ہے۔

اور پھر مناسب انداز میں فیصلہ کرتا ہے۔

یہی پختگی انسان کو زندگی کے مختلف میدانوں میں کامیاب بناتی ہے۔

نوجوان نسل اور کردار کی تعمیر

آج کے نوجوان ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں معلومات کی کوئی کمی نہیں۔ چند لمحوں میں دنیا بھر کی خبریں، معلومات اور خیالات انسان تک پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن معلومات کی کثرت کے باوجود کردار کی تربیت کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس ہوتی ہے۔

نوجوانوں کو صرف کامیاب بننے کی دوڑ میں شامل نہیں کرنا چاہیے بلکہ انہیں اچھا انسان بننے کی اہمیت بھی سمجھانی چاہیے۔

انہیں یہ سکھانا چاہیے کہ کامیابی کے ساتھ دیانت بھی ضروری ہے۔

صلاحیت کے ساتھ عاجزی بھی ضروری ہے۔

آزادی کے ساتھ ذمہ داری بھی ضروری ہے۔

اختیار کے ساتھ انصاف بھی ضروری ہے۔

اور علم کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔

جب نوجوان اپنی شخصیت کی تعمیر اعلیٰ اصولوں پر کرتے ہیں تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتے بلکہ پورے معاشرے کے مستقبل کو بہتر بناتے ہیں۔

خود احتسابی — اصلاح کا پہلا قدم

دنیا کو بدلنے سے پہلے انسان کو خود کو دیکھنا چاہیے۔ دوسروں کی اصلاح سے پہلے اپنی اصلاح ضروری ہے۔

خود احتسابی کا مطلب اپنے آپ کو برا سمجھنا نہیں بلکہ اپنی شخصیت کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

ہر انسان میں خوبیاں بھی ہوتی ہیں اور کمزوریاں بھی۔ کامیاب وہ شخص ہے جو اپنی خوبیوں پر غرور کرنے کے بجائے انہیں مزید بہتر بنائے اور اپنی کمزوریوں کو چھپانے کے بجائے انہیں درست کرنے کی کوشش کرے۔

روزانہ چند لمحے اپنے لیے نکال کر انسان سوچ سکتا ہے:

آج میں نے کس کے ساتھ اچھا سلوک کیا؟

کیا میرے کسی لفظ سے کسی کو تکلیف پہنچی؟

کیا میں نے اپنی ذمہ داری پوری کی؟

کیا میں نے کسی کی مدد کی؟

کیا آج میں کل سے بہتر انسان بنا؟

یہ چھوٹے سوالات انسان کی زندگی میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔

محبت اور شفقت سے بھرپور تربیت

سختی بعض حالات میں ضروری ہو سکتی ہے، لیکن تربیت کی بنیاد صرف سختی نہیں ہونی چاہیے۔ محبت، شفقت اور سمجھ بوجھ انسان کے دل پر زیادہ گہرا اثر چھوڑتی ہیں۔

خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ان کے جذبات اور احساسات کو سمجھنا ضروری ہے۔ ہر غلطی پر صرف ڈانٹ دینا تربیت نہیں، بلکہ غلطی کی وجہ سمجھنا اور اسے درست راستہ دکھانا بھی تربیت کا حصہ ہے۔

ایک اچھا مربی انسان کو صرف اس کی غلطی نہیں بتاتا بلکہ اس کی اصلاح کا راستہ بھی دکھاتا ہے۔

وہ صرف تنقید نہیں کرتا بلکہ حوصلہ بھی دیتا ہے۔

وہ صرف کمزوری نہیں دیکھتا بلکہ صلاحیت بھی پہچانتا ہے۔

یہی انداز انسان کے اندر اعتماد اور بہتری کی خواہش پیدا کرتا ہے۔

ایک بہتر معاشرے کی تعمیر

معاشرہ کسی ایک فرد سے نہیں بنتا بلکہ لاکھوں انسانوں کے کردار اور رویّوں سے تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہر فرد اپنی تربیت اور کردار کی بہتری پر توجہ دے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے۔

جب لوگ سچ بولیں گے تو اعتماد بڑھے گا۔

جب لوگ انصاف کریں گے تو تعلقات مضبوط ہوں گے۔

جب لوگ دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں گے تو معاشرے میں سکون پیدا ہوگا۔

جب لوگ ایک دوسرے کے ساتھ شفقت اور احترام سے پیش آئیں گے تو نفرت اور دشمنی کم ہوگی۔

ایک اچھا معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بنتا بلکہ اچھے انسانوں سے بنتا ہے۔

اور اچھے انسان بہترین تربیت سے پیدا ہوتے ہیں۔

آئینۂ تربیت — ہر فرد کے لیے ایک پیغام

یہ عنوان ہمیں زندگی کے ایک اہم سبق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ انسان کو صرف دوسروں کے لیے آئینہ نہیں بننا چاہیے بلکہ سب سے پہلے اپنے آپ کو دیکھنے کے لیے آئینہ تلاش کرنا چاہیے۔

ہم اپنی شخصیت کا جائزہ لیں۔

اپنے اخلاق کو بہتر بنائیں۔

اپنی زبان کی حفاظت کریں۔

اپنے رویّوں میں نرمی پیدا کریں۔

اپنے گھر والوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔

اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔

اپنی نئی نسل کے لیے بہترین مثال بنیں۔

کیونکہ تربیت کا اثر صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتا۔ ایک اچھی تربیت یافتہ شخصیت اپنے خاندان، دوستوں، شاگردوں، ساتھیوں اور معاشرے پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔

اسی طرح ایک اچھا عمل آگے منتقل ہوتا رہتا ہے۔

ایک اچھا لفظ دوسرے کے دل میں امید پیدا کرتا ہے۔

ایک بہترین کردار کسی اور کو بھی بہتر بننے کی ترغیب دیتا ہے۔

اور یوں ایک فرد کی اصلاح سے پورے معاشرے میں تبدیلی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔

یہ کتاب کیوں پڑھی جائے؟

“آئینۂ تربیت” ان تمام قارئین کے لیے ایک قیمتی اور فکر انگیز مطالعہ ہو سکتی ہے جو اپنی شخصیت اور کردار کو بہتر بنانے کی خواہش رکھتے ہیں۔

یہ کتاب والدین کے لیے تربیت کی اہمیت کو سمجھنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

اساتذہ کے لیے نئی نسل کی کردار سازی کی اہمیت کو اجاگر کر سکتی ہے۔

نوجوانوں کے لیے اپنی شخصیت کا جائزہ لینے اور بہتر مستقبل کی بنیاد رکھنے کا پیغام بن سکتی ہے۔

اور ہر عام قاری کے لیے خود احتسابی، اخلاقی بہتری اور مثبت زندگی کی طرف ایک خوبصورت دعوت ثابت ہو سکتی ہے۔

زندگی میں اصل کامیابی صرف یہ نہیں کہ انسان دوسروں سے آگے نکل جائے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ انسان ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنے کل سے بہتر بن جائے۔

اگر ہمارا علم بڑھ رہا ہے تو ہمارا اخلاق بھی بہتر ہونا چاہیے۔

اگر ہماری کامیابیاں بڑھ رہی ہیں تو ہماری عاجزی بھی بڑھنی چاہیے۔

اگر ہمارا مقام بلند ہو رہا ہے تو ہماری ذمہ داری کا احساس بھی بڑھنا چاہیے۔

یہی حقیقی تربیت ہے۔

اختتامیہ

“آئینۂ تربیت” صرف ایک عنوان نہیں بلکہ ایک دعوتِ فکر ہے۔ یہ انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنی شخصیت کا جائزہ لینے اور اپنی زندگی کو بہتر بنانے کی دعوت دیتی ہے۔

انسان کے پاس دنیا کو بدلنے کے بہت سے خواب ہو سکتے ہیں، لیکن ہر بڑی تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ جب انسان اپنے اخلاق کو بہتر بناتا ہے، اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے، اپنے رویّوں میں نرمی پیدا کرتا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتا ہے تو اس کی شخصیت خود بخود دوسروں کے لیے روشنی بننے لگتی ہے۔

یہی تربیت کا حسن ہے۔

یہی کردار کی طاقت ہے۔

اور یہی ایک خوبصورت، باوقار اور کامیاب زندگی کی بنیاد ہے۔

“آئینۂ تربیت” ہر اس شخص کے لیے ایک خوبصورت انتخاب ہے جو صرف زندگی گزارنا نہیں بلکہ اپنی زندگی کو بہتر اقدار، بہترین اخلاق اور مضبوط کردار کے ساتھ سنوارنا چاہتا ہے۔

آئیے اپنے آپ کو تربیت کے آئینے میں دیکھیں۔

اپنی خوبیوں کو پہچانیں۔

اپنی کمزوریوں کو درست کریں۔

اپنے اخلاق کو سنواریں۔

اور ایک ایسی شخصیت بننے کی کوشش کریں جس کی موجودگی دوسروں کے لیے آسانی، محبت، احترام اور بھلائی کا پیغام بن جائے۔

کیونکہ ایک بہترین انسان بننے کا سفر ہمیشہ تربیت سے شروع ہوتا ہے، اور اپنی ذات کو پہچاننے کا بہترین ذریعہ ہمیشہ ایک سچا آئینۂ تربیت ہوتا ہے۔