Deewan e Imam Ali as | دیوانِ امام علیؑ

 900

Free Home Delivery

Title Range Discount
Rs.100 Discount If You Buy 2 To 5 Products 2 - 5  800
Rs.200 Discount If You Buy 5+ Products 6 +  700
Add to Wishlist
Add to Wishlist

Description

دیوانِ امام علیؑ

حکمت، معرفت، عشق، شجاعت اور کردار سازی سے بھرپور ایک لازوال علمی و ادبی سرمایہ

دیوانِ امام علیؑ ایک ایسی بامقصد، روح پرور اور فکر انگیز کتاب ہے جس کا مطالعہ انسان کو حکمت، دانائی، اخلاق، معرفت، شجاعت، عدل، صبر اور انسانی کردار کے ان پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے جو زندگی کو حقیقی معنوں میں سنوارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امام علیؑ کی ذاتِ گرامی اسلامی تاریخ میں علم و حکمت، شجاعت و عدالت، عبادت و تقویٰ اور فصاحت و بلاغت کے بے مثال اوصاف کا حسین امتزاج ہے، اور آپؑ سے منسوب کلام صدیوں سے اہلِ علم، اہلِ ادب اور اہلِ معرفت کے لیے غور و فکر کا سرچشمہ رہا ہے۔

یہ کتاب صرف اشعار، اقوال یا ادبی کلام کا مجموعہ سمجھ کر پڑھنے والی کتاب نہیں، بلکہ دل کو جگانے، فکر کو روشن کرنے اور کردار کو سنوارنے والا ایک فکری سفر ہے۔

اگر آپ ایسی کتاب کی تلاش میں ہیں جسے پڑھ کر صرف معلومات میں اضافہ نہ ہو بلکہ انسان اپنے آپ سے سوال بھی کرے، اپنے کردار پر نظر بھی ڈالے اور زندگی کے مقصد پر غور بھی کرے، تو دیوانِ امام علیؑ آپ کی ذاتی لائبریری کے لیے ایک خوبصورت اور قیمتی انتخاب ہوسکتی ہے۔


امام علیؑ کی حکمت — ہر دور کے انسان کے لیے پیغام

زمانہ بدلتا رہتا ہے، معاشرے بدلتے ہیں، انسان کے رہن سہن کے طریقے بدل جاتے ہیں، ٹیکنالوجی ترقی کرتی ہے اور زندگی کی رفتار تیز ہوتی جاتی ہے، مگر انسان کی بنیادی ضرورتیں نہیں بدلتی۔

انسان آج بھی سچائی چاہتا ہے۔
آج بھی اسے محبت کی ضرورت ہے۔
آج بھی اسے صبر کی ضرورت ہے۔
آج بھی اسے صحیح اور غلط میں فرق کرنے کے لیے بصیرت درکار ہے۔
آج بھی اسے مشکلات میں حوصلے کی ضرورت ہے۔
آج بھی اسے اپنے نفس پر قابو پانے کی ضرورت ہے۔
اور آج بھی اسے ایسی حکمت کی ضرورت ہے جو اسے زندگی کا صحیح رخ دکھا سکے۔

اسی لیے امام علیؑ کی حکمت آموز تعلیمات آج بھی قاری کے لیے معنویت رکھتی ہیں۔

دیوانِ امام علیؑ کا مطالعہ قاری کو ایسے فکری اور اخلاقی موضوعات کے قریب لے جاتا ہے جو کسی ایک زمانے تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے بنیادی مسائل سے تعلق رکھتے ہیں۔


الفاظ جو دل میں اتر جائیں

کچھ کلام صرف پڑھا جاتا ہے، جبکہ کچھ کلام محسوس کیا جاتا ہے۔

امام علیؑ سے منسوب حکمت و معرفت سے بھرپور کلام میں ایسی گہرائی محسوس ہوتی ہے جو قاری کو چند لمحوں کے لیے رک کر سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔

ایک شعر انسان کو دنیا کی حقیقت پر غور کرنے پر آمادہ کرسکتا ہے۔
ایک حکمت انسان کو اپنی کمزوری کا احساس دلا سکتی ہے۔
ایک نصیحت اسے اپنی زبان اور کردار کی اصلاح کی طرف متوجہ کرسکتی ہے۔
ایک فکر انگیز جملہ اسے علم اور جہالت کے درمیان فرق سمجھا سکتا ہے۔
اور ایک روحانی پیغام انسان کے دل میں امید پیدا کرسکتا ہے۔

یہی دیوانِ امام علیؑ کے مطالعے کی خوبصورتی ہے کہ اس کے الفاظ صرف آنکھوں سے نہیں پڑھے جاتے بلکہ دل اور عقل دونوں سے سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔


علم و حکمت کا بے مثال خزانہ

امام علیؑ کی شخصیت علم و حکمت کے حوالے سے ایک بلند مقام رکھتی ہے۔ آپؑ کے کلام میں انسان کو علم حاصل کرنے، عقل سے کام لینے، غور و فکر کرنے اور حقیقت کو سمجھنے کی ترغیب ملتی ہے۔

آج کے دور میں معلومات حاصل کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہوچکا ہے۔ چند سیکنڈ میں انسان ہزاروں معلومات تک پہنچ سکتا ہے، مگر معلومات اور حکمت میں فرق ہے۔

معلومات انسان کو بتاتی ہیں کہ کیا ہے، جبکہ حکمت اسے سمجھاتی ہے کہ کیا درست ہے، کیا بہتر ہے اور اسے زندگی میں کیسے اختیار کرنا چاہیے۔

دیوانِ امام علیؑ اسی حکمت کی طرف متوجہ کرنے والا مطالعہ ہے۔

یہ کتاب قاری کو یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ حقیقی علم وہی ہے جو انسان کے عمل میں ظاہر ہو، اس کے اخلاق کو بہتر کرے اور اسے اپنے رب، اپنے نفس اور اپنے معاشرے کے بارے میں زیادہ ذمہ دار بنائے۔


انسان اپنے آپ کو پہچانے

انسان پوری دنیا کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، مگر کبھی کبھی اپنے آپ سے سب سے زیادہ غافل ہوجاتا ہے۔

ہم دوسروں کی غلطیاں آسانی سے دیکھ لیتے ہیں، لیکن اپنی خامیوں کو تسلیم کرنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کے رویوں پر گفتگو کرتے ہیں، مگر اپنے کردار کا محاسبہ کم کرتے ہیں۔

امام علیؑ کی حکمت آموز تعلیمات انسان کو خود شناسی اور خود احتسابی کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

دیوانِ امام علیؑ پڑھتے ہوئے قاری کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوسکتے ہیں:

کیا میں اپنی زندگی کا مقصد سمجھتا ہوں؟
کیا میں اپنے وقت کی قدر کرتا ہوں؟
کیا میرے الفاظ میرے کردار کی نمائندگی کرتے ہیں؟
کیا میں غصے میں اپنے آپ پر قابو رکھتا ہوں؟
کیا میں اپنی غلطیوں سے سبق حاصل کرتا ہوں؟
کیا میں دوسروں کے حقوق کا خیال رکھتا ہوں؟
کیا میرے علم نے میرے کردار کو بہتر کیا ہے؟

ایسے سوالات ہی انسان کی حقیقی فکری تربیت کا آغاز ہوتے ہیں۔


عدل و انصاف کا درس

امام علیؑ کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو عدل و انصاف ہے۔ عدل صرف عدالت یا حکمرانی تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔

اپنے گھر میں انصاف،
اپنے کاروبار میں انصاف،
اپنی گفتگو میں انصاف،
اپنے فیصلوں میں انصاف،
اور دوسروں کے حقوق کے معاملے میں انصاف۔

ایک معاشرہ اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب اس کے افراد اپنے مفادات سے آگے بڑھ کر حق اور انصاف کو اہمیت دیتے ہیں۔

دیوانِ امام علیؑ میں موجود حکمت آموز فکر قاری کو عدل، ذمہ داری اور انسانی حقوق جیسے بنیادی موضوعات پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

آج جب دنیا میں ذاتی مفادات، مقابلہ اور خود غرضی بڑھ رہی ہے، عدل کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ اہم محسوس ہوتا ہے۔


شجاعت صرف میدانِ جنگ کا نام نہیں

امام علیؑ کی شجاعت اسلامی تاریخ کا روشن باب ہے، لیکن شجاعت کا مفہوم صرف میدانِ جنگ میں بہادری دکھانا نہیں۔

حقیقی شجاعت یہ بھی ہے کہ انسان:

حق بات کہنے کی ہمت رکھے۔
اپنی غلطی تسلیم کرنے کا حوصلہ رکھے۔
غصے کے وقت خود پر قابو رکھے۔
ظلم کے سامنے خاموش نہ رہے۔
مشکل حالات میں ثابت قدم رہے۔
اپنے نفس کی خواہشات پر قابو پائے۔

یہ شجاعت آج کے انسان کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی ماضی میں تھی۔

دیوانِ امام علیؑ قاری کو شجاعت کے اس وسیع اور گہرے تصور پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔


صبر — زندگی کی مشکلات میں مضبوط رہنے کا ہنر

ہر انسان کی زندگی میں آزمائشیں آتی ہیں۔ کبھی مالی پریشانی، کبھی رشتوں کے مسائل، کبھی ناکامی، کبھی تنہائی اور کبھی ایسے حالات جن کا انسان نے تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔

ایسے وقت میں انسان کے لیے سب سے بڑی طاقت صبر اور حوصلہ بن سکتی ہے۔

صبر کا مطلب مشکلات کے سامنے بے بس ہوجانا نہیں، بلکہ مشکل حالات میں اپنے ایمان، عقل اور کردار کو قائم رکھنا ہے۔

امام علیؑ کی تعلیمات میں صبر، حوصلے اور ثابت قدمی کی اہمیت انسان کو زندگی کی آزمائشوں کا سامنا کرنے کے لیے فکری قوت فراہم کرتی ہے۔

دیوانِ امام علیؑ کا مطالعہ مشکل وقت میں انسان کو اپنے اندر جھانکنے، حالات کو سمجھنے اور مایوسی کے بجائے حوصلے کو اختیار کرنے کی تحریک دے سکتا ہے۔


دنیا کی حقیقت اور آخرت کی فکر

دنیا انسان کو اپنی طرف متوجہ کرتی رہتی ہے۔ دولت، شہرت، منصب، آسائش اور کامیابی کی خواہش انسان کو مسلسل مصروف رکھتی ہے۔

لیکن کیا دنیا ہی زندگی کا آخری مقصد ہے؟

امام علیؑ کے حکمت آموز کلام میں دنیا کی حقیقت، انسان کی عارضی زندگی اور آخرت کی جواب دہی جیسے موضوعات پر غور و فکر کی گنجائش ملتی ہے۔

یہ فکر انسان کو دنیا چھوڑنے کا نہیں بلکہ دنیا کو صحیح انداز میں سمجھنے کا سبق دیتی ہے۔

انسان دنیا میں رہے، محنت کرے، رزق کمائے، اپنے خاندان کی ذمہ داریاں پوری کرے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھے کہ اس کی زندگی صرف مادی کامیابی تک محدود نہیں۔

یہی توازن انسان کی شخصیت میں گہرائی پیدا کرتا ہے۔


اخلاق — انسان کی اصل پہچان

ایک شخص کتنا پڑھا لکھا ہے؟
کتنا مالدار ہے؟
کتنے لوگوں میں مشہور ہے؟
اس کا عہدہ کتنا بڑا ہے؟

یہ سب چیزیں اپنی جگہ اہم ہوسکتی ہیں، مگر انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق اور کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔

نرم گفتگو، سچائی، امانت، وفا، سخاوت، عاجزی، عفو و درگزر اور دوسروں کے احترام جیسی خوبیاں انسان کو حقیقی معنوں میں خوبصورت بناتی ہیں۔

دیوانِ امام علیؑ کا مطالعہ اخلاقی تربیت کے ان بنیادی پہلوؤں پر غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

خاص طور پر والدین، اساتذہ اور نوجوانوں کے لیے ایسی حکمت آموز کتابیں شخصیت سازی کے سفر میں مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔


زبان کی حفاظت — ایک ضروری سبق

انسان کے الفاظ اس کی شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔

ایک اچھا لفظ دل جیت سکتا ہے۔
ایک غلط لفظ دل توڑ سکتا ہے۔
ایک سچی بات اعتماد پیدا کرسکتی ہے۔
ایک جھوٹ پورے تعلق کو کمزور کرسکتا ہے۔

آج سوشل میڈیا کے دور میں گفتگو صرف گھر یا محفل تک محدود نہیں رہی۔ انسان کے الفاظ چند لمحوں میں سینکڑوں اور ہزاروں افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایسے ماحول میں زبان، گفتگو اور الفاظ کی ذمہ داری کو سمجھنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔

امام علیؑ کی حکمت آموز تعلیمات انسان کو گفتگو میں دانائی، احتیاط اور اخلاقی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔

دیوانِ امام علیؑ کا مطالعہ اس پہلو سے بھی قاری کے لیے ایک قیمتی فکری تجربہ ہوسکتا ہے۔


نوجوانوں کے لیے فکر انگیز کتاب

نوجوان کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ، کردار اور فیصلے آنے والے معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں۔

آج نوجوانوں کے سامنے کامیابی کے بے شمار راستے ہیں، مگر ہر راستہ منزل تک نہیں پہنچاتا۔

انہیں ایسی رہنمائی کی ضرورت ہے جو انہیں صرف کامیاب ہونے کا نہیں بلکہ اچھا انسان بننے کا طریقہ بھی سمجھائے۔

دیوانِ امام علیؑ نوجوان قاری کو علم، عقل، کردار، محنت، خود احتسابی، شجاعت اور مقصدِ زندگی جیسے موضوعات پر غور کرنے کی دعوت دے سکتا ہے۔

نوجوان اگر حکمت آموز کلام کو صرف پڑھنے کے بجائے اس کے مفہوم پر غور کریں تو یہی مطالعہ ان کی شخصیت میں مثبت تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔


والدین اور بچوں کے لیے بامقصد مطالعہ

گھر میں کتاب کا ماحول بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر بچے اپنے والدین کو اچھی کتابیں پڑھتے دیکھیں تو ان میں بھی مطالعے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔

دیوانِ امام علیؑ کو گھر کی دینی و فکری لائبریری کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

والدین بچوں کے ساتھ حکمت آموز موضوعات پر گفتگو کرسکتے ہیں۔ ایک قول یا شعر کو موضوع بنا کر گھر میں مختصر گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کتاب صرف الماری میں رکھنے کی چیز نہیں رہتی بلکہ گھر کے فکری ماحول کا حصہ بن جاتی ہے۔


طلبہ اور علم کے شائقین کے لیے

جو لوگ علم و ادب کا ذوق رکھتے ہیں، ان کے لیے امام علیؑ سے منسوب کلام ایک وسیع فکری دنیا کے دروازے کھولتا ہے۔

اس میں اخلاق بھی ہے، حکمت بھی، معرفت بھی، انسانی نفسیات کی جھلک بھی، دنیا کی حقیقت پر غور بھی اور زندگی کے مقصد پر سوچنے کی دعوت بھی۔

طلبہ اس مطالعے سے اپنے فکری افق کو وسیع کرسکتے ہیں اور زبان و بیان کی خوبصورتی سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔

دیوانِ امام علیؑ دینی مطالعے کے ساتھ ادبی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے بھی ایک دلچسپ انتخاب بن سکتا ہے۔


کتاب جو بار بار پڑھنے پر نئی بات دے

کچھ کتابیں ایک مرتبہ پڑھی جاتی ہیں اور پھر دوبارہ کھولنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

لیکن حکمت اور فکر سے بھرپور کتابوں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ انسان کے حالات بدلنے کے ساتھ ان کے معنی بھی زیادہ گہرے محسوس ہونے لگتے ہیں۔

ایک نوجوان جس بات کو آج ایک انداز سے سمجھتا ہے، ممکن ہے چند سال بعد اسی بات میں زندگی کا ایک نیا سبق دریافت کرے۔

اسی لیے دیوانِ امام علیؑ کو ایک مرتبہ پڑھ کر ختم کرنے کے بجائے وقتاً فوقتاً دوبارہ پڑھنا زیادہ بامقصد ہوسکتا ہے۔

ہر بار نئی سوچ، نیا سوال اور نیا سبق سامنے آسکتا ہے۔


ذاتی لائبریری کے لیے ایک قیمتی اضافہ

اگر آپ کی ذاتی لائبریری میں اسلامی تاریخ، دینیات، اخلاق، سیرت اور حکمت سے متعلق کتابیں موجود ہیں تو دیوانِ امام علیؑ اس ذخیرے میں ایک خوبصورت اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ ایسی کتاب ہے جسے آپ اپنے لیے بھی رکھ سکتے ہیں اور اپنے عزیزوں کے لیے تحفے کے طور پر بھی منتخب کرسکتے ہیں۔

ایک اچھی کتاب کی قدر وقت کے ساتھ کم نہیں ہوتی۔ بلکہ جتنا انسان پڑھتا اور زندگی کے تجربات حاصل کرتا ہے، اتنا ہی حکمت آموز کلام کی گہرائی محسوس کرسکتا ہے۔


ایک خوبصورت اور بامقصد تحفہ

اگر آپ کسی ایسے شخص کو تحفہ دینا چاہتے ہیں جسے دینی اور فکری کتابیں پڑھنے کا شوق ہو تو دیوانِ امام علیؑ ایک باوقار انتخاب ہوسکتا ہے۔

یہ تحفہ صرف ایک کتاب نہیں بلکہ مطالعے، فکر، حکمت اور خود احتسابی کی دعوت بھی ہے۔

آپ اسے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں، اساتذہ، طلبہ یا دینی مطالعے سے دلچسپی رکھنے والے کسی عزیز کو پیش کرسکتے ہیں۔

خوبصورت تحفے وہ ہوتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ بھی انسان کے ساتھ رہیں — ایک اچھی کتاب ایسا ہی تحفہ ہے۔


آج کے دور میں امام علیؑ کی حکمت کی ضرورت

ہم ایسے دور میں رہتے ہیں جہاں انسان ترقی کی بہت سی منزلیں طے کرچکا ہے، مگر اس کے باوجود ذہنی دباؤ، بے سکونی، تعلقات میں کمزوری، مادہ پرستی، غصہ، حسد، مقابلہ اور خود غرضی جیسے مسائل موجود ہیں۔

ایسے وقت میں انسان کو صرف جدید معلومات نہیں بلکہ قدیم و آزمودہ اخلاقی حکمت کی بھی ضرورت ہے۔

امام علیؑ کی تعلیمات ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہیں کہ ترقی صرف باہر کی دنیا بدلنے کا نام نہیں؛ اصل ترقی انسان کے اندر تبدیلی سے شروع ہوتی ہے۔

اگر علم کے ساتھ اخلاق ہو، طاقت کے ساتھ انصاف ہو، کامیابی کے ساتھ عاجزی ہو، دولت کے ساتھ سخاوت ہو اور اختیار کے ساتھ ذمہ داری ہو تو انسان کی شخصیت حقیقی معنوں میں مکمل ہوتی ہے۔


دل، دماغ اور کردار — تینوں کے لیے مطالعہ

دیوانِ امام علیؑ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس قسم کا مطالعہ صرف ایک پہلو کو متاثر نہیں کرتا۔

یہ دل کو روحانی اور اخلاقی احساسات کی طرف متوجہ کرسکتا ہے۔

یہ دماغ کو سوچنے اور سوال کرنے کی دعوت دے سکتا ہے۔

اور یہ کردار کو بہتر بنانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔

ایک ایسی کتاب جس کا مقصد صرف پڑھنا نہیں بلکہ سمجھنا، غور کرنا اور عمل کی طرف بڑھنا ہو، وہ ہر سنجیدہ قاری کی لائبریری میں اپنی جگہ بنا سکتی ہے۔


مطالعے کا ایک نیا انداز اپنائیں

اس کتاب کو پڑھنے کا ایک خوبصورت طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ روزانہ صرف چند صفحات یا چند منتخب حکمت آموز کلمات پڑھیں۔

جلدی جلدی صفحات مکمل کرنے کے بجائے ایک بات پر رکیں۔

اس کے معنی سمجھیں۔

اپنی زندگی سے اس کا تعلق تلاش کریں۔

اپنے کردار پر نظر ڈالیں۔

اور سوچیں کہ اس تعلیم کو عملی زندگی میں کیسے شامل کیا جاسکتا ہے۔

اس انداز میں مطالعہ انسان کو کتاب کا صرف قاری نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے کتاب کے پیغام پر غور کرنے والا انسان بنا دیتا ہے۔


آخری بات — حکمت کو زندگی کا حصہ بنائیں

دیوانِ امام علیؑ ان قارئین کے لیے ایک خوبصورت انتخاب ہے جو ایسی کتاب چاہتے ہیں جس میں علم کے ساتھ حکمت، ادب کے ساتھ فکر، اور الفاظ کے ساتھ زندگی کے لیے سبق موجود ہو۔

امام علیؑ کی شخصیت سے وابستہ علمی و اخلاقی ورثہ ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی صرف اس میں نہیں کہ وہ دنیا سے کتنا حاصل کرتا ہے، بلکہ اس میں بھی ہے کہ وہ اپنے علم، کردار، اخلاق اور عمل سے دنیا کو کیا دیتا ہے۔

زندگی مختصر ہے، مگر انسان کے اچھے کردار کے اثرات طویل ہوسکتے ہیں۔

مال ختم ہوسکتا ہے، منصب بدل سکتا ہے، شہرت کم ہوسکتی ہے، مگر اچھا علم، اچھی بات اور اچھا کردار انسان کے بعد بھی زندہ رہ سکتا ہے۔

اسی لیے دیوانِ امام علیؑ محض ایک کتاب نہیں بلکہ حکمت سے ملاقات، فکر سے گفتگو اور اپنے کردار سے دوبارہ تعارف کا ایک خوبصورت ذریعہ بن سکتی ہے۔

اگر آپ اسلامی حکمت، ادب، معرفت اور اخلاقی تعلیمات سے دلچسپی رکھتے ہیں، اگر آپ اپنی ذاتی لائبریری میں امام علیؑ کے کلام سے متعلق ایک بامقصد کتاب شامل کرنا چاہتے ہیں، یا کسی عزیز کو ایسا تحفہ دینا چاہتے ہیں جو صرف چند دن نہیں بلکہ برسوں یاد رہے، تو دیوانِ امام علیؑ ضرور اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں۔

دیوانِ امام علیؑ — حکمت کے الفاظ، معرفت کی روشنی اور کردار سنوارنے کا سفر۔

اپنی لائبریری میں شامل کریں، پڑھیں، غور کریں اور ان حکمتوں کو اپنی زندگی کے سفر میں رہنمائی کا ذریعہ بنائیں۔